MOJ E SUKHAN

آئے تھے تیرے شہر میں کتنی لگن سے ہم

آئے تھے تیرے شہر میں کتنی لگن سے ہم

منسوب ہو سکے نہ تری انجمن سے ہم

۔

بیزار آ نہ جائیں غم جان و تن سے ہم

اپنے وطن میں رہ کے بھی ہیں بے وطن سے ہم

۔

یوں بے رخی سے پیش نہ آ اہل دل کے ساتھ

اٹھ کر چلے نہ جائیں تری انجمن سے ہم

۔

یہ سرکشی جنوں نہیں پندار عشق ہے

گزرے ہیں دار سے بھی اسی بانکپن سے ہم

۔

مہر و مہ و نجوم کی مانند روز و شب

ہر جور آسماں پہ رہے خندہ زن سے ہم

۔

ملتے ہیں روز دست صبا سے پیام گل

زنداں میں بھی قریب ہیں اہل چمن سے ہم

۔

شاعرؔ ادب کے محتسبوں کو خبر نہیں

کیا کام لے رہے ہیں تغزل کے فن سے ہم

حمایت علی شاعر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم