MOJ E SUKHAN

آنسو بھی وہی کرب کے سائے بھی وہی ہیں

آنسو بھی وہی کرب کے سائے بھی وہی ہیں
ہم گردش دوراں کے ستائے بھی وہی ہیں

کیا بات ہے کیوں شہر میں اب جی نہیں لگتا
حالانکہ یہاں اپنے پرائے بھی وہی ہیں

اوراق دل و جاں پہ جنہیں تم نے لکھا ہے
نغمات الم ہم نے سنائے بھی وہی ہیں

اے جوش جنوں درد کا عالم بھی وہی ہے
اے وحشت جاں درد کے سائے بھی وہی ہیں

دیکھا ہے جنہیں آہ بلب چاک گریباں
ہر داغ الم دل میں چھپائے بھی وہی ہیں

سو رنگ بکھیریں گے محبت کے شگوفے
گلنارؔ چمن میں ہمیں لائے بھی وہی ہیں

گلنار آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم