MOJ E SUKHAN

اب کوئی راہ بھی آسان نہیں دیکھنے میں

Abh koi Raah bhi aasaan Nahi Dekhnay Main

غزل

اب کوئی راہ بھی آسان نہیں دیکھنے میں
دیکھتے رہتے ہیں اور دھیان نہیں دیکھنے میں

کتنی ویران نظر آتی ہے تا حد نظر
یہی دنیا کہ جو ویران نہیں دیکھنے میں

ان دنوں فرصتِ تعبیر کہاں ممکن ہے
ان دنوں خواب بھی آسان نہیں دیکھنے میں

ویسے تو ہجر میں اُس کو بھی نہیں کوئی ملال
ویسے تو میں بھی پریشان نہیں دیکھنے میں

اُس جگہ بھی کوئی امکان نکل آتا ہے
جس جگہ کوئی بھی امکان نہیں دیکھنے میں

مقصود وفا

Maqsood Wafa

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم