MOJ E SUKHAN

اب یہ صفت جہاں میں نایاب ہو گئی ہے

غزل

اب یہ صفت جہاں میں نایاب ہو گئی ہے
ململ بدن پہ اس کے کمخواب ہو گئی ہے

کوئی پتہ دے اس کو میری کتاب جاں کا
دنیا کے ساتھ وہ بھی اک باب ہو گئی ہے

پھولوں بھری زمیں ہو خوشبو بھری ہوں سانسیں
یہ آرزو بھی میری کیا خواب ہو گئی ہے

میں بس یہ کہہ رہا ہوں رسم وفا جہاں میں
بالکل نہیں مٹی ہے کم یاب ہو گئی ہے

تکمیل پا رہا ہے یہ کس کے گھر کا نقشہ
دیواریں اٹھ چکی ہیں محراب ہو گئی ہے

چشمے ابل رہے ہیں دشت و جبل سے کیسے
کیا یہ زمین اتنی سیراب ہو گئی ہے

عبید صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم