MOJ E SUKHAN

اتنا عجب سماج میں یہ واقعہ نہیں

اتنا عجب سماج میں یہ واقعہ نہیں
لٹ جانا چاہتوں کا کوئی مسئلہ نہیں

ترکِ تعلقات بھی اس ہی کا حکم تھا
بنیاد اس ستم کی مرا فیصلہ نہیں

گزری فراقِ یار میں کچھ یوں تمام رات
کوئی دیا امید کا چھت پر جلا نہیں

اس شہرِ پر فریب میں کھویا ہے اس طرح
ہم نے پکارا لاکھ مگر وہ ملا نہیں

عالمِ ہو بے بسی کا بھلا بڑھ کے اس سے کیا
یونٹوں پہ میرے اب کوئی حرفِ دعا نہیں

ویسے تو اک ہجوم ہے آلام کا مگر
پہلا سا شہرِ دل میں وہ محشر بپا نہیں

اب تو فراقِ یار میں آنکھیں بھی خشک ہیں
جیسے کہ زندگی میں کوئی غم رہا نہیں

اک تیرا ساتھ تھا مرے ہر درد کی دوا
اب تو نہیں تو کوئی میسر دوا نہیں

اب تو خیال و خواب ہوئیں خواہشیں تمام
اپنا ہی سامنا کروں یہ حوصلہ نہیں

یہ کیسی بے بسی ہے رہِ زیست میں رجب
منزل قریب تر ہے مگر راستہ نہیں

رجب چودھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم