غزل
اس شہر میں کچھ لوگوں سے پہچان ابھی ہے
یعنی کہ مرے ہونے کا امکان ابھی ہے
اک شعر سے خائف ہوا جاتا ہے زمانہ
اس میز پہ رکھا مرا دیوان ابھی ہے
یہ شور بنے گا کسی بیکس کا ترانہ
دنیا مری زنجیر سے حیران ابھی ہے
یہ ہجر مسلسل ہے مگر وصل کا امکان
میں کہہ تو رہا ہوں نا مری جان ابھی ہے
اس نے مری آواز پہ لبیک پکارا
اس عالم غربت میں اک انسان ابھی ہے
لیلائے سخن تجھ پہ بھی حیرت ہے کہ تیرا
دل درد کے احساس سے انجان ابھی ہے
مجنوں سے یہ کہنا کہ مرے شہر میں آ جائے
وحشت کے لیے ایک بیابان ابھی ہے
قمر عباس قمر