MOJ E SUKHAN

اس نے جانے کی کہی ہو جیسے

غزل

اس نے جانے کی کہی ہو جیسے
کوئی آندھی سی چلی ہو جیسے

آج کچھ ایسی تھکن ہے مجھ کو
رات آنکھوں میں کٹی ہو جیسے

پھر مری آنکھ سے آنسو ٹپکا
کوئی امید بندھی ہو جیسے

آج ہنسنے کو بہت جی چاہے
دل پہ اک چوٹ لگی ہو جیسے

تجھ سے مل کر یہ ہوا ہے محسوس
زندگی آج ملی ہو جیسے

عابدہ کرامت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم