MOJ E SUKHAN

الہام

نہیں میں ہر گز نہیں پریشاں
ہنسی میں آنکھیں چھلک گئی ہیں
گلا بھرایا ہوا ہے میرا
تمہیں بھی اوہام ٹوکتے ہیں
تو چونک اٹھتی ہوں میں بھی جاناں
کبھی جو رستے میں آ کے یک دم
گئے دنوں کے مہیب سائے
مجھے اچانک سے روکتے ہیں

کرن رباب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم