MOJ E SUKHAN

امانت میں خیانت ہو رہی ہے

غزل

امانت میں خیانت ہو رہی ہے
سلیقے سے تجارت ہو رہی ہے

نہیں محفوظ کوئی اپنے گھر میں
مگر گھر کی حفاظت ہو رہی ہے

سبھی کے خواب کی تعبیر غم ہے
تو پھر کس کو بشارت ہو رہی ہے

ہمیں نے خون سے سینچا وطن کو
ہمیں سے پھر شکایت ہو رہی ہے

کھڑے ہیں رہنما نیلام گھر میں
بہت ارزاں سیاست ہو رہی ہے

بظاہر مل رہے ہیں سب سبھی سے
مگر اندر بغاوت ہو رہی ہے

غزلؔ سچائی تو مہنگی پڑے گی
تجھے کیسے یہ عادت ہو رہی ہے

ذکیہ غزل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم