انتہائے عاشقی ہے آج کل
خود انہیں بھی بے کلی ہے آج کل
جتنا پانی ڈالئے بھڑکے گی اور
آگ وہ دل میں لگی ہے آج کل
وہ نہیں گویا کہ دنیا ہی نہیں
زندگی بے لطف سی ہے آج کل
سنتا ہوں بے چین ہیں میرے بغیر
گویا قسمت جگ گئی ہے آج کل
وہ مجسم زندگانی ہیں میری
مجھ میں ان سے روشنی ہے آج کل
وہ نہیں تو کچھ بھی دنیا میں نہیں
جیسے ان سے زندگی ہے آج کل
کیا محبت کی ہوائیں چل گئیں
مجھ میں ساقیؔ زندگی ہے آج کل
ساقی کاکوری