MOJ E SUKHAN

اندھیرے بند کمروں میں پڑے تھے

غزل

اندھیرے بند کمروں میں پڑے تھے
اجالے سیر پر نکلے ہوئے تھے

گھروں میں کھانستی تنہائیاں تھیں
یہ سناٹے پرانی نسل کے تھے

ہوس کی بستیاں آتش زدہ تھیں
بڑے کڑوے کسیلے واقعے تھے

صدائیں جھینگروں کی بڑھ رہی تھیں
اندھیرے سیڑھیاں چڑھنے لگے تھے

سہاگن تھے مری بستی کے موسم
کھنکتی چوڑیاں پہنے ہوئے تھے

دھواں پانی بگولے دھوپ طوفاں
یہ اجزا تو ہمارے جسم کے تھے

اندھیری رات کے سادہ ورق پر
خرابے داستاں لکھنے لگے تھے

بھٹکنے کے لیے جب رندؔ نکلے
کہاں جانا ہے رستے پوچھتے تھے

پی پی سری واستو رند

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم