MOJ E SUKHAN

ان لوگوں میں رہنے سے ہم بے گھر اچھے تھے

غزل

ان لوگوں میں رہنے سے ہم بے گھر اچھے تھے
کچھ دن پہلے تک تو سب کے تیور اچھے تھے

دیکھ رہا ہے جس حیرت سے پاگل کر دے گا
آئینے سے ڈر لگتا ہے پتھر اچھے تھے

نادیدہ آزار بدن کو غارت کر دے گا
زخم جو دل میں جا اترے ہیں باہر اچھے تھے

رات ستاروں والی تھی اور دھوپ بھرا تھا دن
جب تک آنکھیں دیکھ رہی تھیں منظر اچھے تھے

آخر کیوں احسان کیا ہے زندہ رکھنے کا
ہم جو مر جاتے تو بندہ پرور اچھے تھے

آنکھیں بھر آئی ہیں فیصلؔ ڈوب گئے ہیں لوگ
ان میں کچھ ظالم تھے لیکن اکثر اچھے تھے

فیصل عجمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم