MOJ E SUKHAN

ان کا غم بھی نہ رہا پاس تو پھر کیا ہوگا

غزل

ان کا غم بھی نہ رہا پاس تو پھر کیا ہوگا
لٹ گئی دولت احساس تو پھر کیا ہوگا

کون تا صبح جلائے گا تمنا کے چراغ
شام سے ٹوٹ گئی آس تو پھر کیا ہوگا

جن کی دوری میں وہ لذت ہے کہ بیتاب ہے دل
آ گئے وہ جو کہیں پاس تو پھر کیا ہوگا

تم سے زندہ ہے تمنائے مذاق احساس
تم ہوئے دشمن احساس تو پھر کیا ہوگا

دل غم دوست پہ مغرور بہت ہے لیکن
غم بھی آیا نہ اگر راس تو پھر کیا ہوگا

اپنی مخمور نگاہوں کو نہ دو اذن خرام
بڑھ گئی اور اگر پیاس تو پھر کیا ہوگا

ہم پریشاں تھے پریشاں ہیں پریشاں ہوں گے
تم کو آئی نہ خوشی راس تو پھر کیا ہوگا

عظمت عشق ہے خودداریٔ دل تک شاعرؔ
بجھ گیا شعلۂ احساس تو پھر کیا ہوگا

شاعر لکھنؤئ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم