MOJ E SUKHAN

اپنی تنہائیوں پہ روتے ہیں

غزل

اپنی تنہائیوں پہ روتے ہیں
زخم دل روز اپنے دھوتے ہیں

یاد ماضی کو ضبط کرتے ہیں
اور کبھی حال غم سموتے ہیں

وہ تصور میں میرے ہیں ہر دم
جو مرے پاس بھی نہ ہوتے ہیں

لمحے گن گن کے دن گزرتا ہے
رات بھر ہم کبھی نہ سوتے ہیں

گر رہے ہیں جو میرے داماں پر
قطرے خون جگر کے ہوتے ہیں

کوئی سمجھائے جا کے ان کو ذرا
کیوں وہ تیر ستم چبھوتے ہیں

نہ سمجھتے ہوئے مرے غم کو
کشتیٔ آرزو ڈبوتے ہیں

نذر کرنے کو کچھ نہیں ہے اداؔ
آنسوؤں کی لڑی پروتے ہیں

بیگم سلطانہ ذاکر وفا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم