MOJ E SUKHAN

اک تیر نہیں کیا تری مژگاں کی صفوں میں

اک تیر نہیں کیا تری مژگاں کی صفوں میں
بہہ جائیں لہو بن کے یہ حسرت ہے دلوں میں

دریا ہو تو موجوں میں کھلے اس کا سراپا
پاگل ہے ہوا چیختی پھرتی ہے بنوں میں

تیشے کی صدا میری ہی فریاد تھی گویا
میری ہی طرح تھا کوئی پتھر کی سلوں میں

یوں آج پھر اک حسرت ناکام پہ روئے
جیسے نہ تھے پہلے کبھی آزردہ دلوں میں

اب صبح سے تا شام ہے صدیوں کی مسافت
ہر لمحۂ بے قید ہے زنجیر دنوں میں

رستوں پہ امڈتا ہوا پھولوں کا سمندر
حیران ہوں کس طرح سمایا ہے گھروں میں

کھینچا تھا جنوں نے جسے دامان ہوا پر
دیکھا تو وہی شکل ہے مٹی کی تہوں میں

کیا ٹھیریں قدم دشت‌ نوردان‌ وفا کے
کانٹا تو نہیں پاؤں میں سودا ہے سروں میں

توصیفؔ وہ یادوں کا دھواں ہے کہ سر بزم
چہرے نظر آتے ہیں چراغوں کی لوؤں میں

توصیف تبسم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم