MOJ E SUKHAN

اے دوست تیرے ہاتھ میں دستار دیکھ کر

اے دوست تیرے ہاتھ میں دستار دیکھ کر
دل بجھ گیا ہے آج یہ سنسار دیکھ کر

بادل کی طرح تیر رہا ہے تمام شہر
میں تھم گئی ہوں وقت کی رفتار دیکھ کر

اب کیا گلہ کریں کہ مرے ہم سفر تھے آپ
رستہ بدل کے چل دیئے پر خار دیکھ کر

اک چاند آگہی کا مرے گھر اتر گیا
روشن ہوئی نظر ترے افکار دیکھ کر

آئینہءخیال کی محفل سے اٹھ کے آج
خود سامنے کھڑے ہیں وہ اصرار دیکھ کر

گر حوصلہ کریں تو سمندر بھی پار ہوں
طوفان رخ بدلتے ہیں پتوار دیکھ کر

اب کیا سناؤں ان کو،فسانہ طویل ہے
عجلت میں چل دیئے ہیں جو سرکار دیکھ کر

شائستہ مفتی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم