بادشاہت گری ہنر ہی سہی
تم کو اس کی بھلے خبر ہی سہی
لوٹ جائے تو مان جاؤں گی
مجھ پہ ڈالو تو اک نظر ہی سہی
کیسے ممکن ہے دل گلہ نا کرے
چاہے رہ جائے بے ثمر ہی سہی
میری آنکھوں سے پڑھ نہ پائے گا
لاکھ کھونے کا دل میں ڈر ہی سہی
اس کے دل میں مکان کرلے گی
میری خواہش بے بال و پر ہی سہی
پھر بھی شکوہ ضرور کرنا ہے
میری ہر آہ بے اثر ہی سہی
کچھ تو تدبیر ہو ملن کی کرن
پھر بھی درپیش اک سفر ہی سہی
کرن رباب