غزل
باغ سے متصل ہے ایک گلی
جہاں کھلتی ہے میرے دل کی کلی
محبس دل میں تم نہیں آئے
ایک دن تو یہاں ہوا بھی چلی
تیری فرقت کے داغ دل میں رکھے
تیرے کوچے کی خاک منہ پہ ملی
ایک تو ہے کہ ہے نظر آتا
ایک میں ہوں کہ ہوں خفی نہ جلی
زر خیرات پھینک دیتا ہوں
کون چکھے سخاوتوں کی ڈلی
سوکھنے والے پھر ہرے نہ ہوئے
راہ کی گھاس پھر نہ پھولی پھلی
پوچھتے ہو کہ کون ہے اکرامؔ
کبھی دیکھا ہے کیا جدید ولیؔ
اکرام عارفی