MOJ E SUKHAN

باغ سے متصل ہے ایک گلی

غزل

باغ سے متصل ہے ایک گلی
جہاں کھلتی ہے میرے دل کی کلی

محبس دل میں تم نہیں آئے
ایک دن تو یہاں ہوا بھی چلی

تیری فرقت کے داغ دل میں رکھے
تیرے کوچے کی خاک منہ پہ ملی

ایک تو ہے کہ ہے نظر آتا
ایک میں ہوں کہ ہوں خفی نہ جلی

زر خیرات پھینک دیتا ہوں
کون چکھے سخاوتوں کی ڈلی

سوکھنے والے پھر ہرے نہ ہوئے
راہ کی گھاس پھر نہ پھولی پھلی

پوچھتے ہو کہ کون ہے اکرامؔ
کبھی دیکھا ہے کیا جدید ولیؔ

اکرام عارفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم