MOJ E SUKHAN

بتوں کے ساتھ طبیعت کو آشنا کر کے

غزل

بتوں کے ساتھ طبیعت کو آشنا کر کے
ہوئے خراب غرض دل کو مبتلا کر کے

بتا تو اے فلک فتنہ کار اس بت سے
لگا ہے ہاتھ ترے ہم کو کیا جدا کر کے

اب آگے دیکھیے کیا نبٹے اس کے درباں سے
ہم اس کے پہنچے ہیں در تک خدا خدا کر کے

کہاں ہے دل جو لگائیں کسی سے پہلے ہی
ہم اپنا بیٹھے ہیں دل صرف مدعا کر کے

کیا نہ فائدہ کچھ خاک چارہ گر آخر
مریض عشق کے نادم ہوئے دوا کر کے

اٹھایا ہاتھ جو عشق بتاں سے تم نے تو پھر
بسر کرو گے بھلا عیشؔ عمر کیا کر کے

حکیم آغا جان عیش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم