MOJ E SUKHAN

بجھنے نہ دو چراغ وفا جاگتے رہو

غزل

بجھنے نہ دو چراغ وفا جاگتے رہو
پاگل ہوئی ہے اب کے ہوا جاگتے رہو

سجدوں میں ہے خلوص تو پھر چاندنی کے ساتھ
اترے گا آنگنوں میں خدا جاگتے رہو

الفاظ سو نہ جائیں کتابوں کو اوڑھ کر
دانشوران قوم ذرا جاگتے رہو

کیسا عجیب شور ہے بستی میں آج کل
ہر گھر سے آ رہی ہے صدا جاگتے رہو

پہلے تو اس کی یاد نے سونے نہیں دیا
پھر اس کی آہٹوں نے کہا جاگتے رہو

پھولوں میں خوشبوؤں میں ستاروں میں چاند میں
کھولے گا کوئی بند قبا جاگتے رہو

تم بھی سنو کہ شہر خموشاں میں رات دن
سناٹے دے رہے ہیں صدا جاگتے رہو

جب بھی قلم کو میرے کبھی آئیں جھپکیاں
آنکھوں نے آنسوؤں سے لکھا جاگتے رہو

منصورؔ رت جگے تو مقدر ہیں آپ کا
جب تک جلے سخن کا دیا جاگتے رہو

منصور عثمانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم