MOJ E SUKHAN

بلدیہ نے گروایا آج سائبان اپنا

بلدیہ نے گروایا آج سائبان اپنا
بھنگیوں کی زد میں ہے دوستو مکاں اپنا

انگلیوں پہ ماراہےسرنےآج یوں ڈنڈا
"انگلیاں فگار اپنی خامہ خوب چکااپنا”

جان چھوٹ ہی جاتی اپنی قرض خواہوں سے
"عرش سے ادھر ہوتاکاشکےمکاں اپنا”

واہ کیا نرالاہےطرزانتخاب اس کا
نقش کردیامیرےگال پرنشاں اپنا

"ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے”
وہ تو فضل ربیع سےبن گیا مکاں اپنا

آج تیس ہے تاریخ آج جیب خالی ہے
آج ہی ہوا منظور اس کو امتحاں اپنا

میں گواہ سلطانی جب سےبن گیا عاصی
"بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا”

مرزا عاصی اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم