غزل
بند آنکھوں کی جب کھڑکیاں کھل گئیں
ہو گئی شاعری کاپیاں کھل گئیں
ساحل دل پہ ارماں کی کشتی چلی
یوں تلاطم اٹھا رسیاں کھل گئیں
شعر و نغمے کی محفل جہاں بھی سجی
موسم حبس کی مٹھیاں کھل گئیں
آنکھ میچے ہی پہچانا میں نے تجھے
پھر گلابوں سی دو پتیاں کھل گئیں
تجھ کو دیکھا لگا صبح نو ہو گئی
الجھنوں سے بنی گتھیاں کھل گئیں
موسم دل پہ جب سے بہارؔ آ گئی
آرزؤں بھری تتلیاں کھل گئیں
بہار النساء بہار