Barha Howa Hay zamanay pa inhisaar wali
غزل
بڑھا ہوا ہے زمانے پہ انحصار ولی
وگرنہ دشت میں کیوں بیٹھتا غبار ولی
یہ زندگی تجھے ملنی نہیں دوبارہ کبھی
ہر ایرے غیرے پہ نعمت نہ ایسے وار ولی
بہت ہوا تجھے پایاب پانیوں کا سفر
یہ کشتی گہرے سمندر میں اب اُتار ولی
خزاں کے خوف سے یوں ترکِ آبیاری نہ کر
پلٹ کے لازمی آئے گی پھر بہار ولی
زمانے ہو گئے سلجھاتے یار کی زلفیں
کبھی تو کاکلِ ہستی بھی تو سنوار ولی
رواں دواں ہی سفر عمر بھر رکھا میں نے
کہیں پہ گھاٹیاں آئیں کہیں ابھار ولی
لہو دکھوں نے اگرچہ ترا نچوڑا ہے
تو خونِ دل سے چمن فن کا بھی نکھار ولی
شاہ روم خان ولی
Shah Room Khan wali