MOJ E SUKHAN

بکھر بکھر کے جو سمٹی وہ کائنات ہوں میں

غزل

بکھر بکھر کے جو سمٹی وہ کائنات ہوں میں
مرا ثبات یہی ہے کہ بے ثبات ہوں میں

خدا تو بھول گیا کب کا خلق کر کے مجھے
سحر بھی چھوڑ گئی جس کو ایسی رات ہوں میں

مرے نفس میں ہے پنہاں جو میرا خالق ہے
ورق ورق جو مکمل ہے وہ کتاب ہوں میں

میں اپنی ذات میں یکتا نہیں ہوں دنیا میں
جو سب پہ بیت رہی ہے وہ واردات ہوں میں

مجھے یہ علم نہیں قافلہ رواں ہے کہاں
مگر شریک غم جادۂ حیات ہوں میں

کرامت غوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم