MOJ E SUKHAN

بیگانۂ شعور وفا ہو گیا وہ شخص

غزل

بیگانۂ شعور وفا ہو گیا وہ شخص
یہ کیا ہوا کہ مجھ سے خفا ہو گیا وہ شخص

جس سے ملی تھی میری تمنا کو روشنی
اے تیرگیٔ بخت خفا ہو گیا وہ شخص

اترا تھا بوئے گل کی طرح میری روح میں
ایسا گیا کہ موج ہوا ہو گیا وہ شخص

ہم نے جسے صحیفۂ الفت سمجھ لیا
بے مہریٔ جہاں کی ادا ہو گیا وہ شخص

اللہ رے اس کی یاد کے گجرے ہرے رہیں
اجڑے ہوئے دلوں کی دوا ہو گیا وہ شخص

سنتے ہیں ایک فیضؔ غریب الدیار تھا
حق مغفرت کرے کہ قضا ہو گیا وہ شخص

فیض تبسم تونسوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم