MOJ E SUKHAN

بے سمت راستوں پہ صدا لے گئی مجھے

بے سمت راستوں پہ صدا لے گئی مجھے
آہٹ مگر جنوں کی بچا لے گئی مجھے

پتھر کے جسم موم کے چہرے دھواں دھواں
کس شہر میں اڑا کے ہوا لے گئی مجھے

ماتھے پہ اس کے دیکھ کے لالی سندور کی
زخموں کی انجمن میں حنا لے گئی مجھے

خوشبو پگھلتے لمحوں کی سانسوں میں کھو گئی
خوشبو کی وادیوں میں صبا لے گئی مجھے

جو لوگ بھیک دیتے ہیں چہرے کو دیکھ کر
زریںؔ انہیں کے در پہ انا لے گئی مجھے

عفت زرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم