MOJ E SUKHAN

بے قراری سی بے قراری ہے

غزل

بے قراری سی بے قراری ہے
سانس لینا بھی اب تو بھاری ہے

موت کو کس لئے کریں بدنام
زندگی زندگی سے ہاری ہے

آدمی اس سے بچ نہیں سکتا
وقت سب سے بڑا شکاری ہے

کیا ہوا گر نہیں خوشی اپنی
غم کی جاگیر تو ہماری ہے

شکل اپنی نہ دیکھیے اس میں
آئنہ جو چمک سے عاری ہے

شام کے رنج کو بھی یاد رکھے
چڑھتے سورج کا جو پجاری ہے

گلستاں آپ کا سہی لیکن
زندگی کس نے اس پہ واری ہے

ہاتف عارفی فتح پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم