MOJ E SUKHAN

بے وجہ نہیں ان کا بے خود کو بلانا ہے

غزل

بے وجہ نہیں ان کا بے خود کو بلانا ہے
آئینۂ حیرت سے محفل کو سجانا ہے

یار غم ہستی کا ہے تذکرہ لا حاصل
مجبور کا جینا ہی اک بار اٹھانا ہے

مجھ سے جو سر محفل تم آنکھ چراتے ہو
کیا راز محبت کو افسانہ بنانا ہے

حالت کے تغیر پر ہو ماتم ماضی کیوں
اک وہ بھی زمانہ تھا اک یہ بھی زمانا ہے

ہے گوشۂ تنہائی منظور مجھے بیخودؔ
اس بزم میں جانا تو جی اور جلانا ہے

عباس علی خان بیخود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم