MOJ E SUKHAN

ترا غم رہے سلامت یہی میری زندگی ہے

ترا غم رہے سلامت یہی میری زندگی ہے
ترے غم سے میرے جاناں مرے دل میں روشنی ہے

مری مے کشی کا حاصل وہ شراب بن گئی ہے
جو ملی تری نظر سے جو تری نظر سے پی ہے

تجھے سامنے بٹھا کر صدا پوجتا رہوں میں
ہے یہی مری عبادت یہی میری بندگی ہے

مرے دل میں بسنے والے تجھے کیسے بھول جاؤں
ترا عشق میرا مذہب تری یاد زندگی ہے

مری التجا ہے تجھ سے مری بندگی بدل دے
کہ ترے کرم مری جاں مری لو لگی ہوئی ہے

میں فقیر آستاں ہوں مری لاج رکھ خدارا
یہ جبین شوق میری ترے در پہ جھک گئی ہے

میں فناؔ کی منزلوں میں ہوں فنا کہ بعد زندہ
تری آرزو میں مٹ کر مجھے زندگی ملی ہے

فنا بلند شہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم