MOJ E SUKHAN

تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھی

غزل

تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھی
محبت خندۂ بے باک بھی ہے گریۂ غم بھی

تھکن تیرے بدن کی عذر کوئی ڈھونڈھ ہی لیتی
حدیث محفل شب کہہ رہی ہے زلف برہم بھی

بقدر دل یہاں سے شعلۂ جاں سوز ملتا ہے
چراغ حسن کی لو شوخ بھی ہے اور مدھم بھی

مری تنہائیوں کی دل کشی تیری بلا جانے
میری تنہائیوں سے پیار کرتا ہے ترا غم بھی

بہاروں کے غزل خواں آج یہ محسوس کرتے ہیں
پس دیوار گل روتی رہی ہے چشم شبنم بھی

قریب آتے مگر کچھ فاصلہ بھی درمیاں رہتا
کمی یہ رہ گئی ہے باوجود ربط باہم بھی

ظہیرؔ ان کو ہمارے دل کی ہر شوخی گوارا تھی
انہیں کرنا پڑے گا اب ہمارے دل کا ماتم بھی

ظہیر کاشمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم