MOJ E SUKHAN

تری گلی سے گزرنے کو سر جھکائے ہوئے

غزل

تری گلی سے گزرنے کو سر جھکائے ہوئے
فقیر حجرۂ ہفت آسماں اٹھائے ہوئے

کوئی درخت سرائے کہ جس میں جا بیٹھیں
پرندے اپنی پریشانیاں بھلائے ہوئے

مرے سوال وہی ٹوٹ پھوٹ کی زد میں
جواب ان کے وہی ہیں بنے بنائے ہوئے

ہمیں جو دیکھتے تھے جن کو دیکھتے تھے ہم
وہ خواب خاک ہوئے اور وہ لوگ سائے ہوئے

شکاریوں سے مرے احتجاج میں بابرؔ
درخت آج بھی شامل تھے ہاتھ اٹھائے ہوئے

ادریس بابر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم