MOJ E SUKHAN

تقدیر بگڑتی جاتی ہے ،گو بات بنائے جاتے ہیں

تقدیر بگڑتی جاتی ہے ،گو بات بنائے جاتے ہیں
وہ اُتنے ہی روٹھے جاتے ہیں، ہم جتنا منائے جاتے ہیں

وہ جا کے نہیں اب آنے والے، طور یہ پائے جاتے ہیں
ہنستے ہیں تسلّی دینے کو ، پر اشک بھی آئے جاتے ہیں

صد شکر کہ فرقِ حُسن و عشق، اعجازِ وفا نے مٹا دیا
میں جلوؤں میں کھویا جاتا ہوں، وہ مجھ میں سمائے جاتے ہیں

محفل بھی وہی، ساقی بھی وہی، قسمت ہے مگر اپنی اپنی
کچھ ہیں جو بلائے جاتے ہیں، ہم ہیں کہ اُٹھائے جاتے ہیں

ہے باغ سے ہم کو کیا مطلب، اب پھول کھلیں یا آگ لگے
جن تنکوں نے رشتہ جوڑا تھا، چُن چُن کے جلائے جاتے ہیں

بیتاب نگاہیں لوٹ رہی ہیں، پردۂ در پر حسرت سے
اور آنے والے آنکھ بچا کر دل میں سمائے جاتے ہیں

ہے پیرہنِ صد پارہ میں خوشبو یہ کسی کے گیسو کی
بیگانہ ہوا جاتا ہوں جہاں سے غش پہ غش آئے جاتے ہیں

باتوں سے مروت کے رشتے وہ توڑ رہے ہیں ہنس ہنس کر
آنکھوں سے محبت کے ساغر بھر بھر کے پلائے جاتے ہیں

رہ رہ کے دھڑک اُٹھتا ہے کلیجہ، سانس الجھتی جاتی ہے
اے موت ٹھہر، تعجل نہ کر، دم بھر میں وہ آئے جاتے ہیں

کیفی کوئی اس کو جی سے مرے پوچھے کہ شب ِ وعدہ میں چراغ
کس طرح جلائے جاتے ہیں، کس طرح بجھائے جاتے ہیں

کیفی اعظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم