MOJ E SUKHAN

تمام عمر ترے نام پر گزاری ہے

تمام عمر ترے نام پر گزاری ہے
مجھے سنوارنا اب تیری ذمہ داری ہے

کسی نے میرے اجالے بھی مجھ سے چھین لیے
کسی نے میرے لیے کہکشاں اتاری ہے

بہت سے چہرے نئے خال و خد کے طالب ہیں
یہ ایسا وقت ہے جو آئنے پہ بھاری ہے

کسی طرح سے بھی ہم ایک ہو نہیں پائے
محبتوں میں تعصب کا کھیل جاری ہے

میں تیرے نام پہ روزانہ خرچ ہوتا ہوں
مرے مزاجِ محبت میں غم گساری ہے

نئے سفر میں ترے ساتھ چل نہیں سکتا
تری وفاؤں کا انداز کاروباری ہے

کسی کے حق میں کوئی کھل کے بولتا بھی نہیں
تمام شہر پہ کس کی اجارہ داری ہے

فساد پھیل گیا میری حق نوائی سے
میں آئنہ ہوں مجھے خوفِ سنگ باری ہے

شکست و فتح کا اعلان بعد میں ہوگا
نثار تجھ سے ابھی میری جنگ جاری ہے

ڈاکٹر نثار احمد نثار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم