غزل
تمام عمر وہ احسان مجھ پہ کرتا رہا
مری ہی راکھ سے وہ زخم میرا بھرتا رہا
تلاش تا بہ فلک جس کی لے گئی مجھ کو
وہ جب ملا تو مرے بال و پر کترتا رہا
ذرا سی دیر کا کہنے کو ساتھ تھا اس کا
تمام عمر مرے دل میں وہ اترتا رہا
میں اس کی دھن میں نئے راستے پہ جا نکلی
دیار جاں سے مری روز جو گزرتا رہا
وہ دل جو پیار سے جیتا تھا اب یہ حال ہوا
کہ جس نے پیار سے دیکھا اسی سے ڈرتا رہا
عابدہ کرامت