MOJ E SUKHAN

تم نے یہ ماجرا سنا ہے کیا

غزل

تم نے یہ ماجرا سنا ہے کیا
جو بھی ہونا ہے ہو چکا ہے کیا

وہ مسافر جو راستے میں تھا
منزلوں سے گزر گیا ہے کیا

کوئی ہوتا نہیں ہے آپ کے ساتھ
آپ کے ساتھ مسئلہ ہے کیا

یہ جو تدبیر کر رہا ہوں میں
یہ بھی تقدیر میں لکھا ہے کیا

سوچنے والی بات ہے عمرانؔ
کوئی یہ بات سوچتا ہے کیا

دل بدل جائے گھر بدل جائے
آدمی کا کوئی پتا ہے کیا

کیا ہے یہ مستطیل تنہائی
یہ اداسی کا دائرہ ہے کیا

غور سے کون دیکھتا ہے یہاں
ان چراغوں میں جل رہا ہے کیا

کیوں وہ سر پر سوار ہے عمرانؔ
تیرے دل سے اتر گیا ہے کیا

عمران شمشاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم