MOJ E SUKHAN

تڑپ کے رات بسر کی جو اک مہم سر کی

غزل

تڑپ کے رات بسر کی جو اک مہم سر کی
چھری تھی میرے لیے جو شکن تھی بستر کی

عرق عرق ہیں جو گرمی سے روز محشر کی
پناہ ڈھونڈتے ہیں میرے دامن تر کی

ہوا گمان اسی شوخ سست پیماں کا
اگر ہوا سے بھی زنجیر ہل گئی در کی

اسی طرف ترے قرباں نگاہ شرم آلود
مجھی پہ تیز ہو یہ باڑھ کند خنجر کی

خرام وہ جو ہلا دے جگر فرشتوں کا
نگاہ وہ جو الٹ دے صفوں کو محشر کی

سجائی حضرت واعظ نے کس تکلف سے
متاع زہد و ورع سیڑھیوں پہ منبر کی

عبور بحر حقیقت سے جب نہیں ممکن
کنارے بیٹھ کے لہریں گنوں سمندر کی

سنے گا کون سنی جائے گی صفیؔ کس سے
تمہاری رام کہانی یہ زندگی بھر کی

صفی لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم