MOJ E SUKHAN

تیری راہوں میں ڈال کر ڈیرے

غزل

تیری راہوں میں ڈال کر ڈیرے
ترے رستے میں بیٹھنا ہے مجھے

تیری راہوں کی خاک چھاننی ہے
خود کو مٹی میں روندنا ہے مجھے

وصل کی اب نہیں کوئی صورت
دور سے روز دیکھنا ہے مجھے

تجھ کو چھونے کی بھی نہیں خواہش
تجھ کو آنکھوں سے چومنا ہے مجھے

تجھ کو صحن حرم میں مانگا تھا
تجھ کو ریکھا میں ڈھونڈھنا ہے مجھے

یاد آتی نہیں تمہیں میری
تجھ سے اک بار پوچھنا ہے مجھے

تجھ کو فرصت نہیں ہے سننے کی
اپنی غزلوں میں بولنا ہے مجھے

تیرے خوابوں میں مست رہتی ہیں
اپنی آنکھوں کو نوچنا ہے مجھے

تیرے بارے میں سوچ ہاری ہوں
اپنے بارے بھی سوچنا ہے مجھے

یہ سفر کس قدر کٹھن ہے ناں
دائروں میں ہی گھومنا ہے مجھے

کنول ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم