MOJ E SUKHAN

تیری صورت ترا لہجہ ترے افکار سے بس

تیری صورت ترا لہجہ ترے افکار سے بس
اتنے نزدیک تو آئے ترے کردار سے بس

اتنے جذبات میں آکے نہ مجھے پیار کریں
لگ بھی جائے نہ نظر پیار کو اس پیار سے بس

گھر کی دیوار بھی کرنے لگی کانا پھوسی
اک جھلک دیکھ کے توبہ کریں دیدار سے بس

رات تکیہ مرا بھیگا ہے ترے اشکوں سے
دوریاں اب تو بنا لیں اجی فنکار سے بس

اپنی فطرت میں جو شامل ہے ہنسی کے پہلو
آپ کرتے رہیں اس بات کو انکار سے بس

گفتگو یار سے کرتے یہ کوئی بات نہیں
ہم تو لپٹے ہیں فقط گھر کی ہی دیوار سے بس

شعر تابش کے ہی سن کر تجھے راحت ملتی
پیار تابش سے بھی کرتے ہیں کہ اشعار سے بس

تابش رامپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم