MOJ E SUKHAN

جب تک مرے ہونٹوں پہ ترا نام رہے گا

جب تک مرے ہونٹوں پہ ترا نام رہے گا
دل بے خبر گردش ایام رہے گا

مٹ جائے گا ہر نقش خیال غم ہستی
لیکن ورق دل پہ ترا نام رہے گا

کیوں ڈر ہے گناہوں کے سبب حشر کے دن سے
ہم جانتے ہیں ان کا کرم عام رہے گا

پیغام تو آئیں گے بہت دیر و حرم سے
لیکن تری چوکھٹ سے مجھے کام رہے گا

مے خانہ سلامت ہے اگر تیری نظر کا
لبریز مئے عشق سے ہر جام رہے گا

دامن ہے اگر تیرا مرے دست طلب میں
آغاز سے بہتر مرا انجام رہے گا

جائے گی نہ دل سے ترے عارض کی محبت
زلفوں کا تصور مجھے ہر شام رہے گا

آنکھیں ہی نہیں تیری فناؔ دید کے قابل
تو جلوہ گہہ یار میں ناکام رہے گا

فنا بلند شہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم