MOJ E SUKHAN

جدا ہو کر وہ ہم سے ہے جدا کیا

غزل

جدا ہو کر وہ ہم سے ہے جدا کیا
سماعت کا صدا سے فاصلہ کیا

خود اپنے عالم حیرت کو دیکھے
ترا منہ تک رہا ہے آئنا کیا

اندھیرا ہو گیا ہے شہر بھر میں
کوئی دل جلتے جلتے بجھ گیا کیا

لہو کی کوئی قیمت ہی نہیں ہے
ترے رنگ حنا کا خوں بہا کیا

چراغوں کی صفیں سونی پڑی ہیں
ہمارے بعد محفل میں رہا کیا

دلوں میں بھی اتارو کوئی مہتاب
زمیں پر کھینچتے ہو دائرہ کیا

دیا اپنا بجھا دو خود ہی شاعرؔ
ہوائے نیم شب کا آسرا کیا

شاعر لکھنؤئ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم