Jaza Gum Sum Saza Gum Sum
غزل
جزا گم صم سزا گم صم
گل و گلشن ہوا گم صم
ہے نفرت کی فراوانی
محبت بے صدا گم صم
زمیں پر شور برپا ہے
فلک پر ہے گھٹا گم صم
سبھی ہیں بےوفا ظالم
تبھی ہے یہ وفا گم صم
یہی سانسوں کا شکوہ ہے
خطاؤں پر خطا گم صم
دلوں پر مہرِ نفرت ہے
ہوئی مہرِ بقا گم صم
مریضِ عشق ہوں جس کی
ہے خود میں ہی شفا گم صم
تری آنکھوں میں اے فہمی
ترا اپنا پتہ گم صم
فریدہ عالم فہمی
Fareeda Aalam Fehmi