MOJ E SUKHAN

جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گيا

جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گيا
شاہی تو مل گئ دل شاہانہ چھٹ گيا

کوئ تو غم گسار تھا، کوئ تو دوست تھا
اب کس کے پاس جائیں کہ ویرانہ چھٹ گيا

دنیا تمام چھٹ گئ پیمانے کے ليئے
وہ میکدے میں آے تو پیمانہ چھٹ گيا

کیا تیز پا تھے دن کی تمازت کے قافلے
ہاتوں سے رشتہء شب افسانہ چھٹ گیا

اک دن جساب ہو گا کہ دنیا کے واسطے
کن صاحبوں کا مسلک رندانہ چھٹ گیا

مصطفیٰ زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم