MOJ E SUKHAN
No Record Found
جو بھی من جملۂ اشجار نہیں ہو سکتاکچھ بھی ہو جائے مرا یار نہیں ہو سکتا
اک محبت تو کئی بار بھی ہو سکتی ہےایک ہی شخص کئی بار نہیں ہو سکتا
جس سے پوچھیں ترے بارے میں یہی کہتا ہےخوب صورت ہے وفادار نہیں ہو سکتا
Add languages
ہمارے بعد بھی جاری یہ سلسلہ ہوگا
لب پر مچلتے لفظوں کو چکھ کر نہ دیکھ لے
ہوائے شام ذرا سا قیام ہوگا نا
ملال چھوڑ دوں ذکر ملال بھی نہ کروں
خواب تمہارے آتے ہیں
سرخ ہو جاتا ہے منہ میری نظر کے بوجھ سے
جتنا سہتا ہوں زمانے کی جفا ہر لمحہ اور
میرے خوابوں کو نگلنے کا ارادہ نہ کرے
اس کی تصویروں کی نسبت خوب ہے کمرا مرا
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے