MOJ E SUKHAN

جو پی رہا ہے سدا خون بے گناہوں کا

غزل

جو پی رہا ہے سدا خون بے گناہوں کا
وہ شخص تو ہے نمائندہ کج کلاہوں کا

جسے بھی چاہا صلیب ستم پہ کھینچ دیا
فقیہ شہر تو قائل نہیں گواہوں کا

ہم اہل دل ہیں صداقت ہمارا شیوہ ہے
ہمیں ڈرا نہ سکے گا جلال شاہوں کا

ہر ایک قدر کو رسوائیاں ملیں ان سے
عجیب سا رہا کردار دیں پناہوں کا

مری زمین کو مقبوضہ تو زمیں نہ سمجھ
کہ ٹوٹنے کو ہے افسوں تری سپاہوں کا

ابھی تو عزم سفر بھی کیا نہ تھا ہم نے
کہ جاگ اٹھا ہر اک ذرہ شاہراہوں کا

بخش لائلپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم