غزل
جو ہے کتاب دل کے حسیں اقتباس میں
ہے تذکرہ اسی کا مری التماس میں
آزاد ہے جو باغ وطن اور پر بہار
شامل ہے میرا خون بھی اس کی اساس میں
اس کا کوئی نصیب ہے جس کو خوشی میں بھی
اک ابتلا ہے کلفت و امید و یاس میں
کچھ ان میں آشنائے حقیقت بلا کے ہیں
آتے ہیں جو نظر ہمیں سادہ لباس میں
اس خاص تر اثر کا ہو انعامؔ کیا بیاں
جو ہے نگاہ اہل دل و حق شناس میں
انعام تھانوی