MOJ E SUKHAN

حکم دست گاہ تک اور بس

غزل

حکم دست گاہ تک اور بس
کام تنخواہ تک اور بس

دو قدم کا سفر آسماں
جاہ سے کاہ تک اور بس

منتظر منتشر دھڑکنیں
راہ سے راہ تک اور بس

شہد کے دودھ کے زمزمے
شاہ سے شاہ تک اور بس

اے سیہ فامیے حد میں رہ
سانس کی راہ تک اور بس

طائرٍ قلب کی جست گاہ
شستہ سے ٹھاہ تک اور بس

زندگی بوسئہٍ فاحشہ
واہ سے آہ تک اور بس

پانیوں پہ سجی، تشنگی
کربلا گاہ تک، اور بس

حسن کے عشق کے طنطنے
وصل کی تھاہ تک اور بس

زاہد حسین جوہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم