MOJ E SUKHAN

خبر ہے کہ آیا گلابوں کا موسم

غزل

خبر ہے کہ آیا گلابوں کا موسم
گلوں کے بدن پر ہے کانٹوں کا موسم

خدا جانے اس رت میں کیا گل کھلائے
گلستاں کا جوبن یہ کلیوں کا موسم

لبوں کی شرارت نظر سے اشارت
دم وصل کیسا حیاؤں کا موسم

یہ دور محبت بھی کیسا عجب ہے
ہوں آنکھوں میں باتیں اشاروں کا موسم

ہوائے جدائی یہ کیسی چلی پھر
غموں کی فضا میں عذابوں کا موسم

جو پیاسے ہیں بانوؔ تم ان کو صدا دو
کہ صحرا میں اترا ہے چشموں کا موسم

بانو صائمہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم