MOJ E SUKHAN

خرام موجۂ باد صبا سے ملتی رہے

غزل

خرام موجۂ باد صبا سے ملتی رہے
تری خبر مجھے ابر رسا سے ملتی رہے

تری کشش سے نہ نکلے کبھی زمین دل
تری رتوں ترے ارض و سما سے ملتی رہے

میں جانتی ہوں کوئی معجزہ نہ ہوگا مگر
مری دعا ترے دست دعا سے ملتی رہے

میں کاٹ دوں پس دیوار باغ عمر تمام
اگر مجھے تری خوشبو ہوا سے ملتی رہے

ترے چمن میں میں اک شاخ زرد رو ہی سہی
مجھے نمو تری آب و ہوا سے ملتی رہے

تری جھلک کا میسر ہو زاد راہ مجھے
پھر اس کے بعد مسافت بلا سے ملتی رہے

وہ دشت عمر ہو یا ریگزار ہجر مجھے
سفر کی سمت ترے نقش پا سے ملتی رہے

صائمہ زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم