MOJ E SUKHAN

خزاں سے سینہ بھرا ہو لیکن تم اپنا چہرہ گلاب رکھنا

غزل

خزاں سے سینہ بھرا ہو لیکن تم اپنا چہرہ گلاب رکھنا
تمام تعبیر اس کو دینا اور اپنے حصے میں خواب رکھنا

ہر اک زمیں سے ہر آسماں سے ہر اک زماں سے گزرتے رہنا
کہیں پہ تارے بکھیر دینا کہیں کوئی ماہتاب رکھنا

جو بے گھری کے دکھوں سے تم بھی اداس ہو جاؤ ہار جاؤ
تو آنسوؤں سے مکاں بنانا اور اس کے اوپر سحاب رکھنا

جو ان کہے ہیں جو ان سنے ہیں وہ سارے منظر بھی دیکھ لو گے
بس اپنی آنکھوں کی چپ میں روشن محبتوں کے عذاب رکھنا

مہیب راتوں کے جنگلوں میں ابد کے جیسا سکوت ہو جب
لہو کا اپنے دیا جلانا اور اپنا چہرہ کتاب رکھنا

تم اپنے اندر کی ہجرتوں سے نڈھال ہو کر جو لوٹنا تو
نہ خود سے کوئی سوال کرنا نہ پاس اپنے جواب رکھنا

یہ زندگی تو سفر ہے صابرؔ سفر میں جب بھی کسی سے ملنا
تمام صدمے بھلاتے رہنا محال ہوگا حساب رکھنا

صابر وسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم