MOJ E SUKHAN

خطا انجام ہو کر رہ گیا ہے

غزل

خطا انجام ہو کر رہ گیا ہے
بشر ناکام ہو کر رہ گیا ہے

ترا ملنا بقید زندگانی
خیال خام ہو کر رہ گیا ہے

فریب اعتبار‌ سعیٔ پیہم
مرا انجام ہو کر رہ گیا ہے

ہر اک عنواں بیاض آرزو کا
ترا پیغام ہو کر رہ گیا ہے

دل ناکام کا ہر داغ حسرت
سواد شام ہو کر رہ گیا ہے

وفا کا نام فارغؔ اس جہاں میں
برائے نام ہو کر رہ گیا ہے

لکشمی نارائن فارغ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم